کاروار ،28 / ستمبر (ایس او نیوز) ریاستی ہائی کورٹ نے اقلیتی کمیشن کے سابق رکن انتھون فرنانڈیز کو حکومت کی طرف سے قانون کے مطابق مشاہرہ نہ دینے کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ 31 جولائی 2009 سے ریٹائر ہونے کی تاریخ تک ماہانہ 1.19 لاکھ روپے کے حساب سے تمام بقایا جات ایک مہینے کے اندر ادا کیے جائیں ۔
ہائی کورٹ نے یہ تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے ریاستی حکومت کی طرف سے جاری کردہ 1999 کے قانون کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق ریاستی اقلیتی کمیشن کے صدر کو ریاستی ہائی کورٹ جج کو ملنے والا مشاہرہ اور اقلیتی کمیشن کے اراکین کو کرناٹکا پبلک سروس کمیشن کو ملنے والا مشاہرہ دیا جائے گا ۔ سال 2018 میں ریاستی پبلک سروس کمیشن کے اراکین کی تنخواہ 30 ہزار سے بڑھا کر 70 ہزارروپے کر دی گئی جس کی وجہ سے دیگر الاونسس کے ساتھ مشاہرے کی کل رقم 1.19 لاکھ روپے ماہانہ ہونی چاہیے تھی ۔
حکومت کی طرف سے اس قانون پر عمل نہ ہونے کی شکایت لے کر انتھون فرنانڈیز نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا ۔عدالت نے انتھون کی اس عرضی پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے اسی طرح کے کئی معاملات میں عدالت کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ قانون کے مطابق انتھون فرنانڈیز ماہانہ 70 ہزار روپے تنخواہ اور دیگر الاونسس سمیت 1.19 روپے مشاہرہ پانے کا حق دار ہے ۔ لہٰذا انتھون فرنانڈیز کو 31 جولائی 2009 سے ریٹائر ہونے کی تاریخ تک ماہانہ 1.19 لاکھ روپے کے حساب سے تمام بقایا جات ایک مہینے کے اندر ادا کیے جائیں ۔
معلوم ہوا ہے کہ انتھون فرنانڈیز نے مسلسل 7 برس تک یہ قانونی جنگ لڑی ہے جس میں اب اسے بہت بڑی کامیابی ملی ہے ۔ اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انتھون نے کہا کہ مجھے قانون اور ہائی کورٹ پر پورا بھروسہ تھا کہ فیصلہ میرے حق میں آئے گا ۔ حکومت نے چونکہ اپنے ہی قانون پر عمل نہیں کیا تھا اور کے پی ایس سی اراکین کے مشاہرے کے مطابق مائناریٹی کمیشن کے اراکین کو مشاہرا نہیں دیا تھا ، اس لئے میں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا ۔